برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں
رہو تم شاد اے اہلِ وطن ہم گھر سے جاتے ہیں
نوید اے خارِ صحرا مژدہ اے دشواریٔ منزل
کہ ہم راہِ وفاداری میں چشم و سر سے جاتے ہیں
کہاں گم گشتۂ راہِ سعادت ہیں انھیں دیکھیں
جو چلتے ہیں نگاہوں میں وہ اس تیور سے جاتے ہیں
جلو میں فوجِ غم ہے اردلی میں لشکرِ عسرت
بیاباں میں افق ہم ایسے کر و فر سے جاتے ہیں
